4/10/22

حضرت محبوب ذات نے فرمایا یہ درخت سدا سہاگن رہے گا

 سدا سہاگن

حضور سے مری کے لوگوں نے التجا کی کہ آپ کے بعد ہم کس طرح مستفیض ہوں

گے آپ نے شیروں کی باولی کے قریب اپنی وظیفہ گاہ کے ساتھ اگے ہوئے ایک درخت

کی طرف اشارہ کر کے فرمایا:انشاء اللہ ہر بیماری کے لئے اس درخت کا ایک پتہ کھا لینے

والا شفایاب ہوگا۔ انہوں نے عرض کی: برف باری میں تو اس کے پتے نہیں رہتے۔

آپ نے فرمایا

: یہ درخت سدا سہاگن رہے گا

۔ اس دن سے اس درخت کا نام سدا سہاگن مشہور ہوگیا اور موسم خزاں میں بھی اس کے پتے نہیں مرجھاتے اور ھرا رہتا ہے 

آپ کی یہ زندہ کرامت آج بھی موجود ہے یہ وہی درخت ہے جس کے پاس آپ

ساری ساری رات یادالہی میں مشغول رہتے تھے۔

   


آگ بجھ گئی

ایک دفعہ کا ذکر ہے ک فوجی پارک میں آگ لگ گئی۔ خطرے کا بگل بج گیا حضور

بھی موقعہ پر پہنچ گئے اور آگ کی طرف شہادت کی انگلی سے اشارہ کر کے قصیدہ غوثیہ کا یہ شعر پڑھا۔

ولو القيت سرى فوق نار

لخمدت وانطفت من سر حالې

آگ بجھ گئی۔

ایسی بے شمار اور لاتعدادکرامات ہیں جن کا آگے تفصیل سے ذکر کیا جائے گا۔

Labels: , ,

0 Comments:

Post a Comment

Subscribe to Post Comments [Atom]

<< Home