4/04/22

حضرت داتا صاحب اور مختلف مزارات پرحاضری

 مزار مونگا شاہ ولی

جب آپ سیالکوٹ کے قریب حضرت مونگا ولی شاہ کے مزار شریف پر پہنچے تو شام ہوچکی

تھی ۔ مجاوروں نے کہا کہ یہاں ٹھہرنا خطرے سے خالی نہیں ۔ آپ نے ارشاد فرمایا

میں تو یہاں ہی رہوں گا۔ جب صبح ہوئی تو مجاور آپ کو زندہ سلامت دیکھ کر

حیران ہوئے۔ آپ یہاں بھی نہ ٹھہرے اور یہاں سے چل دیئے۔

مزار حضرت ملک شاہ ولی

جب موضع اگوکی کے قریب پہنچے تو سبز پیرہن پہنے سفید ریش بزرگ راستہ میں ملے

جنہوں نے آپ سے پوچھا کہاں جارہے ہو؟ آپ نے عرض کی:یہ تو مجھے بھی معلوم

نہیں۔ یہ بزرگ حضورغوث پاک سیدناغوث اعظم تھے۔ جنہوں نے آپ کا بازو پکڑا

اور فرمایا: آپ میری اولاد ہیں جہاں بھی جاؤ گے ہم آپ کے ساتھ ہیں۔

چیانوالی کی چلہ گاہ

چنانچہ یہاں سے حضور سرکار عالی لاہور کے قریب موضع چیانوالی کی مسجد میں پہنچ کر

چالیس ایام تک معتکف رہے۔

مزار حضرت داتا صاحب اور پیر مکی پرحاضری

پھر آپ نے حضرت داتاگنج بخش سیدنا سیدعلی ہجویری قدس سرہ العزیز کے مزار مبارک

پر حاضری دی اور پھر حضرت پیر مکی سیدنا سید عزیز الدین رحمتہ اللہ علیہ کے مزارمقدس پر

حاضری دی۔

مزار حضرت سیدصوف

ابا حضور کے خلیفہ بابا عبد الرشید صاحب لاہوری کہتے ہیں کہ میں جب بیعت ہونے

کے لئے آیا تو سرکار عالی نے فرمایا کہ حضرت سیدصوف کو میرا سلام عرض کرنا۔ پھر

حضور نے فرمایا کہ میں حضور کے دربار میں چلہ کاٹ چکا ہوں جب رات میں وہاں

پہنچاتو لوگ کہتے تھے کہ آپ یہاں نہیں بیٹھ سکتے کیونکہ رات کو ادھر شیر آتا ہے جس کی

بڑی دہشت ہوتی

ہے۔ میں نے مجاوروں کو کہا ک تم تالا لگا کر چلے جاؤ اور مجھے یہاں

رہنے دو جس پر مجاوروں نے ایسا ہی کیا اور دوسرے یوم میں صحیح و سالم تھا یہ دیکھ کر مجاور

حیران ہو گئے۔ ایک واقعہ سرکار عالی نے اپنے چشمہ لگانے کا یوں سنایا کہ میں

حضرت سیدصوف رحمة اللہ علیہ کی درگاہ سے باہرنکل رہا تھا اور باہر قوالی ہورہی تھی۔ ایک شخص پر میری نظر پڑی تو وہ بے ہوش ہوگیا میں نے انارکلی سے عینک خریدکر لگائی 

مزار امام بری

حضرت سرکار عالی لاہور سے راولپنڈی تشریف لے گئے اور یہاں پرشیخ عبد الرحمان 

اینڈ برادرز کے ہاں ملازمت اختیار کرلی۔ آپ ہر روز حضرت بری امام شاہ سیدنا عبد

اللطيف رحمة اللہ علیہ کے مزار مبارک حاضری دیا کرتے آپ اتنے سجیلے اور گٹھے

ہوئے جوان تھے کہ قریباً 15میل سفر پیدل کرتے لیکن تھکن کے آثار چہرہ مبارک پر

نہ ہوتے۔

   


Labels:

0 Comments:

Post a Comment

Subscribe to Post Comments [Atom]

<< Home