مسجد کے محراب میں شگاف پڑ گیا
مسجد کے محراب میں شگاف پڑ گیا
کافی شاپ کے معاملے کے بعد حضور اپرباڑیاں کے بازار سے گزر رہے تھے
مقامی بزرگ فقیراللہ نے مسجد کے چبوترے سے آواز دی تو آپ ان کے پاس چلے آئے حضرت فقیراللہ نے طعنہ دیا کہ آپ نے پرایا مال لٹادیا ہے۔ آپ اس وقت جوش و
جلال کی کیفیت میں تھے آپ نے فرمایا فقیراللہ تو صاحب نظر ہے، تجھے ایسا سوال نہیں کرنا
چاہیے تھا، جس نے لٹایا اس نے اپنا مال لٹایا اور ٹھیکیداران کا مال پورا کر دیا۔ فقیراللہ کا
ہاتھ پکڑ کر حضور نے قصیده غوثیہ کا شعر پڑھا
وعبد القادر المشهور اسمی
وجدى صاحب العين الكمال
مسجد کانپنے لگی فقیراللہ صاحب ڈر گئے اور بھاگنے لگے کہ مسجد گر رہی ہے۔ آپ
نے ہاتھ نہ چھوڑا اور جھٹکا دے کر نیچے بٹھادیا تھوڑی دیر بعد مسجد ساکن ہوئی مگر اس کے
محراب کے اوپر جس طرف شعر پڑھتے وقت انگشت شہادت کا اشارہ تھا دیوار میں شگاف
پڑ گیا۔1960 میں، میں نے خود جا کر مسجد کے محراب کا شگاف دیکھا۔
از سید افتخار احمد حسین قدس سرہ العزیز رحمتہ اللہ علیہ
Labels: #Allah ky #wali#hazratmehbobezaat #sarkar ki #karamat, #Allah ky wali



0 Comments:
Post a Comment
Subscribe to Post Comments [Atom]
<< Home