محبوب ذات سرکار کے حجرے پر ایک ناگ پہرا دیتا تھا
شیروں والی باولی
ایک دفعہ رات کے وقت آپ یاد الہی میں محو تھے کہ ایک شیر نے اپنا پاؤں آپ
کے پاؤں پر رکھ دیا جب شیر کا پاؤں آپ کے پاؤں پر آیا شیر کے جسم میں ایک
بجلی کا سا اثر ہوا اور وہ باولی میں گر کر مر گیا۔ اس واقعہ کے بعداس باولی کا نام شیرکی
باولی پڑ گیا اوراب یہ نام شیروں کی باولی مشہور ہے۔
برف باری میں عبادت الہی
مری سے دور کوہالہ کے مقام پر آپ دریائے جہلم میں اپنے پاؤں ڈبوئے تمام
رات عبادت الہی میں گزار دیتے۔ سردی کا خطرناک موسم بھی آپ کو یادالہی سے نہیں
روک سکتا تھا۔ آپ نے برف باری میں بھی جب پانی جم جاتا ہے اپنے معمول میں
فرق نہ آنے دیا اور بد ستور عبادت الہی میں مصروف رہتے۔
کالے ناگ کا پہرہ
اپرٹوپہ میں جہاں آپ عبادت فرماتے تو ایک ناگ آپ کے حجرہ پر پہرہ دیتا
تھا۔ جب آپ عبادت کے لئے تشریف لاتے تو وہ دروازے سے ہٹ جاتا اور
راستہ دیتا۔ یہاں پر آپ تلاوت قرآن مجید فرماتے اور وظائف وغیرہ پڑھتے۔
باہر ناگ پہرہ دیتا رہتا۔ اور جب آپ نماز فجر ادا فرما کر باہر تشریف لاتے تو
آپ کے سامنے سے ہٹ جاتا اور آپ کے باہر جانے کے بعد اپنا فرض ادا کر کے
چلا جاتا لوگ اس خوف کی وجہ سے رات کے وقت وہاں نہ جاتے تھے اور اگر کوئی
کوشش کرتا تو وہ رکاوٹ پیدا کرتا۔ ناجانے ناگ کے روپ میں کوئی جن ہو جو آپ
کے پہرے پر اللہ تعالٰی نے مقرر فرمایا ہو جو اپنی وفاداری ظاہر کرنے کے
لئے روزانہ سر خم کر کے تعلیمات بجا لاتا۔ جب سے حضور سرکار عالی وہاں سے چلے
آئے ہیں آج تک اسے کسی نے بھی وہاں نہیں دیکھا۔ اپر باڑیاں کی چھاؤنی میں
بھی آپ اکثر صبح کو عبادت الہی میں مصروف رھتے پھر ملازمت کے فرائض میں
مصروف ہوجاتے۔
Labels: lion۔snake



1 Comments:
MashAllah
Post a Comment
Subscribe to Post Comments [Atom]
<< Home