سرکارعالی محبوب ذات کی زندگی میں ہونے والے واقعات
والدہ صاحبہ کا انتقال
حضور سرکار عالی کا سن شریف ابھی آٹھ سال چار ماہ سات یوم کا ہوا تھا کہ آپ
کے نانا محترم حضرت سید میرشرف علی شاہ رحمۃ اللہ علیہ صاحب چار ذوالحجہ 1322 کو
وصال کر گئے اور ابھی آپ دس سال کے بھی نہیں ہوئے تھے کہ آپ کی والدہ
بتاریخ 9 جمادی الثانی 1324 ھجری کو رحلت کر گئیں۔ اور ان کے صرف چھ ماہ بعد ہی
بتاریخ 9 ذوالحجہ 1324ھ يوم جمعة المبارک (یوم اکبری حج ) آپ کے دادا محترم
حضرت قبلہ سید حیدر علی شاہ صاحب بھی راہی ملک عدم ہوئے۔
ہنڈیا نہ کھائی
آپ کی دادی صاحب بوڑھی تھیں لیکن آپ کا کھانا خود پکاتی تھیں ۔ وہ مسلسل تین
ماہ کے روزے رکھتی تھیں: رجب، شعبان، رمضان۔
ایک یوم آپ کی دادی صاحبہ نے کسی خادمہ سے ہنڈیا تیار کروائی۔ خادمہ نے غلطی
سے چمچ اٹھا کر دیوار کے ساتھ رکھ دیا
۔ حضور اتفاقا ادھر سے گزرے تو آپ نے اس
روز سالن سے روٹی نہ کھائی اور خودسرخ مرچیں کوٹ کر اس سے روٹی تناول فرمائی۔
اللہ کو سجدہ کرو
حضور سرکارعالی مشن ہائی سکول گندم منڈی سیالکوٹ میں تعلیم حاصل فرمارہے
تھے۔ اور فٹ بال ٹیم کے کیپٹن تھے۔ آپ کی ٹیم میچ کھیلنے مرے کالج کی گراؤنڈ میں
گئی۔مد مقابل ٹیم خاصی سخت جان تھی۔ پہلے تو آپ روایتا کھیلتے رہے اور جب میچ ختم
ہونے میں چند منٹ باقی رہ گئے تو آپ کے ساتھی کچھ مایوس ہوگئے اور آپ سے
مخاطب ہوکر بولے شاہ جی اگر ہار گئے تو بڑی بے عزتی ہوگی ہماری ۔ آپ نے
فرمایا بھائیوں! اگر تم سب اسی گراؤنڈ میں الله تعالٰی وحدہ لاشریک کے سامنےجھک کر سجدہ کر دو تو تمہیں یقین دلاتا ہوں کہ شکست حق میں بدل سکتی ہے۔ یہ سنتے ہی تمام کی تمام ٹیم جن میں کٹر ہندو اور سکھ تھے ایک دم اسی گراؤنڈ میں آپ کی امامت میں سربسجود ہو گئے اور الله الله پکارتے رہے۔ سجود سے قیام میں آتے ہی آپ نے اللہ وتعالی کا نام لے کر کک لگائی۔ کک اتنی زوردار تھی جو سیدھی گول میں جا کر چاند بن گئی ۔ یہ سارا واقعہ جو زیادہ سے زیادہ دو منٹ میں ہوا تھا دیکھنے والوں کے دماغ ماؤف کر گیا۔ ہر شخص ششدررہ گیا۔ ٹیم کے ارکان اور ناظرین نے آپ کو والہانہ طور پرگھیر لیا
۔ کوئی آپ کے قدم چومتا اور
کوئی ہاتھ۔ اس طرح روز مرہ کی زندگی میں آپ ظاہر ہو چکے تھے۔
عہد جوانی
حضور سرکار عالی جوانی کے ایام میں بھی تمام رات عبادت الہی میں محو رہتے تھے۔
آپ رات کو آنکھوں میں مرچیں بھی ڈال لیا کرتے تھے تاکہ نیند نہ آئے۔ تمام دن ملازمت کے فرائض میں گزارتے اور رات خوشنودی ربانی میں۔
مری کے جنگلات
مری کے پہاڑوں میں جہاں آبادی نہ تھی جنگلات میں تمام رات گزارتے آج سے تقریبا سو (۱۰۰) سال قبل (۱۹۱۴ء تا ۱۹۲۱ء) مری کے گھنے جنگلات شیروں،
چیتوں اور دیگر موذی جانوروں سے بھرے پڑے تھے (آج مری کے جنگلات کا بڑا حصہ کاٹا جا چکا ہے اب وہاں درندے وغیرہ بہت کم ہیں ۔ مری کے باشندے آج
بھی وہاں جاتے ہوئے گھبراتے ہیں جہاں آپ تمام رات عبادت الہی میں محو رہتے۔
آپ نے جنگل میں ایک چشمہ جاری کیا جہاں بعد میں انگریزوں نے باولی بنادی۔
Labels: #Allah ky #wali#hazratmehbobezaat #sarkar ki #karamat, #Allah ky wali, #sialkot



0 Comments:
Post a Comment
Subscribe to Post Comments [Atom]
<< Home