سرکار محبوب ذات نے سونے کی بالیاں خیرات کر دی
![]() |
گھوگھوڑے
ایک دفعہ ایک گھگو گھوڑے بیچنے والی نے صدا دی: بچو گھگو گھوڑے لے لو۔ آپ بھی
بچوں کے ساتھ اس کے پاس گئے لیکن کوئی کھلونا نہ لیا۔ آپ بچپن ہی سے کھیل کود سے اجتناب فرماتے۔
ایں سعادت بزور بازو نیست
تانہ بخشد خدائے بخشنده
سونے کی بالیاں
آپ چونکہ اپنے والدین کی اکلوتی اولاد تھے جس کے باعث والدین نے آپ
کے کانوں میں سونے کی بالیاں ڈالی ہوئی تھیں جن کو دیکھ کر گھگو گھوڑے بیچنے والی
عورت نے حسرت بھری نگاہ سے کہا کہ کاش میں بھی اپنی بیٹی کو ایسی بالیاں مہیا کر
سکوں ۔ یہ سن کر حضور نے اس کی تمنا پوری کر دی یعنی کہ اپنے کانوں سے بالیاں اتارکر
اس کو دے دیں۔ عورت کو بالیاں لینے میں تذبذب ہوا کہ مبادا پکڑی جاؤں ۔ آپ
نے فرمایا: مائی صاحبہ میں کھلونوں کا ٹوکرا اٹھوا کر آپ کے سر پر رکھ دیتا ہوں۔ آپ بےدھڑک چلی جائیں۔ جب تک آپ میری نظروں سے اوجھل نہ ہو جاؤ گی میں گھر
نہ جاؤں گا۔ چنانچہ آپ اپنے عہد کے مطابق وہیں کھڑے رہے حتی کہ مائی آنکھوں
سے اوجھل ہو گئی اور آپ گھر تشریف لے آئے۔ اس عمر میں بھی آپ کو یہ ادراک تھا
کہ انسانی دل سونے سے زیادہ قیمتی ہے۔
تیری نسل پاک میں ہے بچہ بچہ نور کا
تو ہے عین نور تیرا سب گھرانا نور کا
آپ نے روڑس، اگوکی اور سیالکوٹ کے مدارس میں میٹرک تک تعلیم حاصل کی
۔ آپ کو جو جیب خرچ ملتا وہ غریب طالب علم ساتھیوں میں تقسیم فرما دیتے اور
بعض اوقات کرایہ بھی لوگوں کو دے دیتے اور خود سیالکوٹ پیدل آتے جاتے۔
Labels: #Allah ky #wali#hazratmehbobezaat #sarkar ki #karamat



0 Comments:
Post a Comment
Subscribe to Post Comments [Atom]
<< Home