حضرت محبوبِ ذات نے کافی شاپ اور جنرل سٹور یہ کہہ کر لٹا دیا کہ کہو اللہ ایک ہے
ملازمت
اجمل شہباز محی الدین ہیں۔ بسلسلہ ملازمت آپ شیخ عبدالرحمن اینڈ برادرز (ملٹری سپلائرز) کی کافی شاپ میں مینجر ہو گئے۔ اس دوران آپ کا قیام نواح راولپنڈی اور مری (اپر ٹوپہ کالا باغ اپر باڑیاں) میں زیادہ تر رہا۔ اس زمانہ میں آپ پر جذب کا عالم طاری ہوا۔ آپ دن کو ملازمت کے فرائض انجام دیتے اور رات کو پہاڑوں اور جنگوں کی خلوتوں میں اللہ تعالی وجده لا شریک کی ذات سے لو لگاتے ۔ جہاں سیدنا غوث اعظم نے آپ کو اپنے دیدار سے مشرف فرمایا اور خود اپنی رہنمائی میں تمام منازل طے
کرائیں۔ کچھ عرصہ بعد سیدنا غوث اعظم نے آپ کو ظاہری بیعت کرنے کا حکم فرمایا مگر چونکہ آپ کی تکمیل ہو چکی تھی۔ اس لئے ظاہری بیعت کرنے میں آپ کو تردد ہوا۔ سیدنا غوث اعظم نے انسانوں کی ایک بڑی جماعت کا مشاہدہ حضور کو کراکرفرمایا کہ ان تمام لوگوں نے آپ سے فیض حاصل کرنا ہے۔ اس لئے ظاہری بیعت کرنا آپ کے لئے لازمی ہے تا کہ ان لوگوں کا شجرہ بیت چلے۔ چنانچہ آپ نے اپنے حقیقی ماموں محترم وکرم حضرت سید فتح علی شہباز کے اصرار پر کہ آپ اپنے خاندان
ہی میں بیعت کر لیں انہی کے دست حق پر بیعت کی اور صاحب ارشاد ہوئے۔
تحصیل مری میں آپ سے ایک مشہور کرامت کا اظہار ہوا۔ یعنی آپ نے تمام
کافی شاپ اور جنرل سٹور گوراپلٹن کے سپاہیوں میں یہ کہ کر لٹادی کے کہو اللہ ایک ہے
اور جو چاہو لے لو مگر جب کافی شاپ کے مالکان شیخ عبدالرحمن اینڈ برادر کو تشویش
Labels: Allah'is'one



0 Comments:
Post a Comment
Subscribe to Post Comments [Atom]
<< Home