4/12/22

مری والے سید لعل شاہ کو مجذوب کردیا

 مری والے سید لعل شاہ کو مجذوب کردیا

  

حضور سرکار عالی 1921 میں شیخ عبدالرحمن کی کافی شاپ میں جنرل مینجر تھے۔

پلٹن کا قیام اپر باڑیاں تحصیل مری ضلع راولپنڈی میں تھا۔ حضور کی خدمت عالیہ میں سید لعل شاہ تشریف لائے اور آپ کے پاس لانگری کے طور پر ملازم ہو گئے ۔

ایک دن حضرت سید لعل شاہ نے عرض کی حضور آپ بھی سید میں بھی سید، باطنی

فیوضات میں کچھ عطا فرما دیں۔ سرکار عالی نے ارشادفرمایا آپ اپنے نانا کی امت

کے گھوڑے بننا قبول کریں گے تو ہم آپ کو ولایت بخش دیں گے لعل شاہ نے عرض

کی کہ مجھے منظور ہے۔ سرکار عالی نے نگاہ کی تو لعل شاہ بے ہوش ہو کر زمین پر گر گئے،

منہ سے خون جاری ہو گیا اورکئی گھنٹے بے ہوشی میں گزر گئے۔ حضور سرکار عالی نے پانی

دم کر کے لعل شاہ کے منہ پر چھینٹے پھینکے تولعل شاہ ہوش میں آ گئے اور کہنے لگے:

من خدا را آشکارا دیده ام

گاه مولا گاہے بنده دیده ام

سرکار عالی نے لعل شاہ صاحب کو کپڑے عنایت کئے اور حکم فرمایا کہ لعل شاہ غسل 

کے بعد ان کو پہنو اور اب تمہیں ہمیشہ جنگل کی تنہائیوں اور خاموشیوں میں ساری زندگی گزارنا ہوگی۔

لعل شاہ صاحب نے 36 سال تک مری کے پہاڑوں میں اپنے مرشد کے حکم

کے تحت گزارے اور دم آخریں بھی انہیں فضاؤں میں جذب کر کے رکھ دیا۔ لعل شاه

صاحب سب کو مارتے لیکن اگر کوئی پیر بھائی (جس کا تعلق حضور سرکار عالی سے ہوتا)

آتا تو قریب بٹھا لیتے اور ایک ہی نعرہ مارتے لال ٹوپی والے شاہ جی۔

Labels: , ,

0 Comments:

Post a Comment

Subscribe to Post Comments [Atom]

<< Home