4/11/22

حضرت محبوب ذات کی دعا سے مہاراجہ گوالیار کو وارث مل گیا

 مہاراجہ گوالیار کو وارث مل گیا

   

1921 میں حضور سرکار عالی نے شیخوں کی کافی شاپ لٹا کر پوری کر دی اور پھر استعفی دے دیا تھا۔ اس کے بعد آپ میسرز اے اینڈ ایم وزیرعلی (ملٹری کوٹریکٹرز لاہور) کے پاس ٹرپ مینجر اور پھر کافی شاپ مینجر کی حیثیت سے ملازم رہے۔ اسی دوران میں حضور سرکار عالی ۱۹۲۹ء میں جبل پور تشریف رکھتے تھے کہ راجہ گوالیار اپنی رانی کے همراه اولاد نرینہ کی دعا کے لئے حضور سرکار عالی کی خدمت عالیہ میں حاضر ہوا۔ سرکارعالی نے ارشادفرمایا:اللہ تعاظم و تعالی کے حضور میں عاجزی سے دعا کرتا ہوں اور اس کی درگاہ سے امید رکھتا ہوں کہ وہ مالک کل خالق کائنات وحده لا شریک تمہاری مراد پوری کرےگا۔ رب تعالی نے کچھ عرصہ کے بعد کرم فرما دیا۔ چنانچہ راجہ اور اس کی رانی بذات خود ایک ہاتھی اور ایک لاکھ روپے نقد نذرانے کے طور پر لے کر حاضر ہوئے۔ حضور نے فرمایا :فقیر دعا کا معاوضہ نہیں لیتا۔ بلکہ خلق اللہ کے لئے صرف فی سبیل اللہ دعا کرتا ہے۔ یہ فرما کر سب کچھ لٹا دیا۔ راجہ اور رانی اس عالی ظرفی اور بلند کرداری کے

جوہر کو دیکھ کر بے حد حیران بھی ہوئے اور خوش بھی حضور سرکار عالی نے ارشادفرمایا:فقیر بادشاہ

ہوتا ہے جو مانگنا ہے مانگو۔ راجہ نے عرض کی سرکار عالی ! کرشن جی مہاراج کے درشن کرا

دیں۔ سرکار عالی نے اس کی تمنا پوری کر دی۔ کرشن جی مہاراج کو راجہ نے گائے کا

دودھ دوہتے ہوئے دیکھا۔

Labels:

0 Comments:

Post a Comment

Subscribe to Post Comments [Atom]

<< Home