سرکار عالی محبوبِ ذات قدس سرہٗ العزیز جسم کے کپڑے بھی اللہ کی راہ میں سخاوت فرما دیتے
سرکار عالی محبوب ذات قدس سرہٗ العزیز جسم کے کپڑے بھی اللہ کی راہ میں سخاوت کر دیتے
حضرت محبوبِ ذات قدس سرہٗ العزیز آپ خدمت خلق کیا کرتے تھے آپ کا یہ معمول تھا کہ روزانہ کم و بیش چار پانچ گھنٹے کا وقت بعد نماز ظہر خاص طور پر عوام کے لئے وقف کر رکھا تھا بیماروں کے لئے دعائے صحت اور بیواؤں کی امداد کپڑوں اور روپیہ پیسہ سے فرماتے انقلاب1947 میں دل کھول کر مہاجرین کی امداد فرمائی پچاس کے سیلاب میں سیلاب زدگان کی بھرپور امداد فرمائی اس کے علاوہ اگر کوئی سائل مقررہ وقت سے ہٹ کر بھی آ جاتا تو اس کی پوری پوری داد رسی فرماتے کوئی بھی سائل خالی ہاتھ آپ کے درِ دولت سے واپس نہ جاتا قیام لاہور کے دوران ایک دفعہ سردیوں میں آپ کے ماموں سید امداد علی شاہ صاحب نے آپ کو کوٹ سلوا کر دیا اور کہا کہ اب کسی کو نہیں دینا لیکن آپ نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ سردی میں ٹھٹھر رہا ہے آپ نے سوچا کہ میں نے تو سویٹر بھی پہن رکھا ہے لہذا اسے دے دیا جب آپ کے ماموں نے دیکھا تو فرمایا احمدحسین آپ نہیں بدل سکتے اور اکثر اوقات آپ جسم کے کپڑے بھی سخاوت فرما دیا کرتے تھے
ایک دفعہ کا واقعہ ہے کہ آپ نے لاہور سے بٹالہ شریف جاتے ہوئے سردی کے موسم میں ریلوے اسٹیشن لاہور کے پلیٹ فارم میں ایک آدمی کو دیکھا جو برہنہ سردی میں ٹھٹہرا رہا تھا آپ نے تولیہ لپیٹ کر کر اپنے تمام کپڑے اتار کر اس کو پہنا دیئے ایک بڑا تولیا اپنے پاس رکھا جس کو لپیٹ کر گھر چلے گئے اگر غریب مریدین کے پاس کرایا نہ ہوتا تو آپ عطا فرماتے غرض یہ کہ حضور ہر ایک سے اتنی محبت و شفقت فرمائی کہ آپ کسی اور پر مہربان نہ تھے آپ کا اصول تھا کہ امیر اور غریب کو بلا تمیز ایک جیسا کھانا کھلاتے ہر مرید کو دوست کہہ کر پکارتے اور حضور سرکار عالی ہمیشہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ حسنہ کا نمونہ پیش کرتے رہے
حضرت محبوبِ ذات قدس سرہٗ العزیز آپ خدمت خلق کیا کرتے تھے آپ کا یہ معمول تھا کہ روزانہ کم و بیش چار پانچ گھنٹے کا وقت بعد نماز ظہر خاص طور پر عوام کے لئے وقف کر رکھا تھا بیماروں کے لئے دعائے صحت اور بیواؤں کی امداد کپڑوں اور روپیہ پیسہ سے فرماتے انقلاب1947 میں دل کھول کر مہاجرین کی امداد فرمائی پچاس کے سیلاب میں سیلاب زدگان کی بھرپور امداد فرمائی اس کے علاوہ اگر کوئی سائل مقررہ وقت سے ہٹ کر بھی آ جاتا تو اس کی پوری پوری داد رسی فرماتے کوئی بھی سائل خالی ہاتھ آپ کے درِ دولت سے واپس نہ جاتا قیام لاہور کے دوران ایک دفعہ سردیوں میں آپ کے ماموں سید امداد علی شاہ صاحب نے آپ کو کوٹ سلوا کر دیا اور کہا کہ اب کسی کو نہیں دینا لیکن آپ نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ سردی میں ٹھٹھر رہا ہے آپ نے سوچا کہ میں نے تو سویٹر بھی پہن رکھا ہے لہذا اسے دے دیا جب آپ کے ماموں نے دیکھا تو فرمایا احمدحسین آپ نہیں بدل سکتے اور اکثر اوقات آپ جسم کے کپڑے بھی سخاوت فرما دیا کرتے تھے
ایک دفعہ کا واقعہ ہے کہ آپ نے لاہور سے بٹالہ شریف جاتے ہوئے سردی کے موسم میں ریلوے اسٹیشن لاہور کے پلیٹ فارم میں ایک آدمی کو دیکھا جو برہنہ سردی میں ٹھٹہرا رہا تھا آپ نے تولیہ لپیٹ کر کر اپنے تمام کپڑے اتار کر اس کو پہنا دیئے ایک بڑا تولیا اپنے پاس رکھا جس کو لپیٹ کر گھر چلے گئے اگر غریب مریدین کے پاس کرایا نہ ہوتا تو آپ عطا فرماتے غرض یہ کہ حضور ہر ایک سے اتنی محبت و شفقت فرمائی کہ آپ کسی اور پر مہربان نہ تھے آپ کا اصول تھا کہ امیر اور غریب کو بلا تمیز ایک جیسا کھانا کھلاتے ہر مرید کو دوست کہہ کر پکارتے اور حضور سرکار عالی ہمیشہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ حسنہ کا نمونہ پیش کرتے رہے
حضرت محبوبِ ذات قدس سرہٗ العزیز آپ خدمت خلق کیا کرتے تھے آپ کا یہ معمول تھا کہ روزانہ کم و بیش چار پانچ گھنٹے کا وقت بعد نماز ظہر خاص طور پر عوام کے لئے وقف کر رکھا تھا بیماروں کے لئے دعائے صحت اور بیواؤں کی امداد کپڑوں اور روپیہ پیسہ سے فرماتے انقلاب1947 میں دل کھول کر مہاجرین کی امداد فرمائی پچاس کے سیلاب میں سیلاب زدگان کی بھرپور امداد فرمائی اس کے علاوہ اگر کوئی سائل مقررہ وقت سے ہٹ کر بھی آ جاتا تو اس کی پوری پوری داد رسی فرماتے کوئی بھی سائل خالی ہاتھ آپ کے درِ دولت سے واپس نہ جاتا قیام لاہور کے دوران ایک دفعہ سردیوں میں آپ کے ماموں سید امداد علی شاہ صاحب نے آپ کو کوٹ سلوا کر دیا اور کہا کہ اب کسی کو نہیں دینا لیکن آپ نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ سردی میں ٹھٹھر رہا ہے آپ نے سوچا کہ میں نے تو سویٹر بھی پہن رکھا ہے لہذا اسے دے دیا جب آپ کے ماموں نے دیکھا تو فرمایا احمدحسین آپ نہیں بدل سکتے اور اکثر اوقات آپ جسم کے کپڑے بھی سخاوت فرما دیا کرتے تھے
ایک دفعہ کا واقعہ ہے کہ آپ نے لاہور سے بٹالہ شریف جاتے ہوئے سردی کے موسم میں ریلوے اسٹیشن لاہور کے پلیٹ فارم میں ایک آدمی کو دیکھا جو برہنہ سردی میں ٹھٹہرا رہا تھا آپ نے تولیہ لپیٹ کر کر اپنے تمام کپڑے اتار کر اس کو پہنا دیئے ایک بڑا تولیا اپنے پاس رکھا جس کو لپیٹ کر گھر چلے گئے اگر غریب مریدین کے پاس کرایا نہ ہوتا تو آپ عطا فرماتے غرض یہ کہ حضور ہر ایک سے اتنی محبت و شفقت فرمائی کہ آپ کسی اور پر مہربان نہ تھے آپ کا اصول تھا کہ امیر اور غریب کو بلا تمیز ایک جیسا کھانا کھلاتے ہر مرید کو دوست کہہ کر پکارتے اور حضور سرکار عالی ہمیشہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ حسنہ کا نمونہ پیش کرتے رہے
Labels: #Allah ky #wali#hazratmehbobezaat #sarkar ki #karamat, #Allah ky wali



0 Comments:
Post a Comment
Subscribe to Post Comments [Atom]
<< Home