حضرت محبوب ذات نے پانی دم کر کے کنویں میں ڈالا جہاں سے آج بھی لاکھوں لوگ شفا پا رہے ہیں
شاه جی کا کنواں انبالہ شریف
1936 میں حضور سرکار عالی انبالہ شریف میں محبوبیت کا تاج پہنے مسند نشین
ہوئے تو چند دنوں میں ہی آپ مرجع خلائق ہو گئے ۔ ہر وقت لوگوں کا تانتا
بندھا رہتا ۔ لوگ بیماروں کو لاتے آپ پانی دم فرما کر دیتے۔ مریض شفایاب
ہوتے ۔ آپ کی اس شفاۓ خاص سے آپ کا چرچہ اس قدر ہو گیا کہ سینکڑوں
صراحیاں پیش ہوتیں آپ دم فرماتے اور لوگ واپس لے جاتے۔ شفا کا
فیضان اس قدر ہوا کہ انبالہ کے ڈاکٹروں نے حکام ضلع سے شکایت کر دی کہ
چھاؤنی میں ایک بزرگ آ گیا ہے
جس کی وجہ سے ہمارے کاروبار کو خاصا دھچکا لگا ہے۔ حکام کی تو خیر جرأت نہ
ہوئی مگر آپ نے خود ہی لوگوں سے کہہ دیا کہ یہ پانی لے کر فلاں کنویں میں
پھینک دیں اور اس سے پانی لے جا کر مریضوں کو دے دیا کریں۔ اللہ تعاظم و
تعالی شفا عطا فرما دے گا۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا اور آج تک ہو رہا ہے۔ اس
کنویں کا نام شاه جی کا کنواں‘‘ پڑ گیا ہے فیض اب تک جاری ہے اور اللہ تعاظم و تعالی کی مہربانی سے ہمیشہ جاری رہے گا۔
(حضرت مصنف قدس سره
العزیز کی جائے پیدائش بھی انبالہ شریف ہے۔)
Labels: shah g ka kunwa



0 Comments:
Post a Comment
Subscribe to Post Comments [Atom]
<< Home