حضرت محبوب ذات دہلی میں اجمیر شریف اور باقی باللہ کے مزار پر پہنچے تو
اہل قبول کے ساتھ تعلقات
اجمیر شریف میں سجادہ نشین کی تواضع
خلیفہ سوئم میر حسرت علی شاہ صاحب الہ آبادی بیان کرتے ہیں کہ حضور سرکار عالی 1927 میں حضرت باقی باللہ رحمۃ اللہ علیہ کے روضہ اقدس واقع دہلی کی زیارت کرنے کے بعد اجمیر شریف روانہ ہو گئے ۔ حضور سرکار عالی رحمة الله علیہ نے مجھے بتایا کہ وہاں کے سجادہ نشین مجھے لینے کے لئے نہیں آئے۔ میں نے مراقبہ کیا تو خواجہ غریب نواز معین الدین چشتی رحمة اللہ علیہ نے مجھے فرمایا کہ میں مدینہ منورہ گیا ہوا تھا۔ میں ابھی مجاوروں اور سجادہ نشین کو کہہ دیتا ہوں کہ وہ آپ کی عظمت پہچانے اور آپ کی شان کے مطابق آپ کا استقبال کریں ۔ اس مراقبہ کے تھوڑی دیر بعد سجادہ نشین بمع تمام مجاوروں کے میرے پاس آئے اور مجھے علیحدہ کمرہ دیا جس میں رہائش کا تمام سامان موجود تھا اور دو وقت کھانا سجادہ نشین خود بھیجتے تھے ۔ میں نے یہاں تین چار ایام قیام کیا اور واپس دہلی آ گیا۔
مجاور میری اولا نہیں۔
سید میر حسرت علی شاہ صاحب خلیفہ سوئم الہ آبادی نے بیان کیا کہ 1927 میں حضور سرکار عالی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ جب میں دہلی گیا تو حضرت باقی بالله رحمة الله علیہ کے مزار پاک پر حاضری دی حضرت باقی باللہ صاحب نے مجھے کہا کہ میرے مزار پر جو مجاور ہیں وہ میری اولاد نہیں ہیں لوگوں کو غلط بتاتے ہیں کہ ہم صاحب مزار کی اولاد میں سے ہیں ۔ میں نے یہ بات مجاوروں کو بتائی لیکن وہ نہ مانے میری طبیعت جوش میں آ گئی۔ میں نے حضرت باقی باللہ رحمة الله علیہ کی قبر کے تعویز کو دونوں ہاتھوں سے تھام لیا اور مجاوروں کو مخاطب کر کے کہا کہ اگرتم باقی باللہ کی اولاد سے ہو تو یہ تعویز پکڑ کر بتاؤ۔ یہ سن کر تمام مجاور خائف ہوگئے اور کسی کی ہمت نہ ہوئی کہ باقی بالله کی قبر کے تجویز کو پکڑے۔ حالانکہ حضور سرکار عالی قدس سرہ العزیز کا نسبی تعلق حضرت باقی بالله رحمة الله علیه سے نہ تھا لیکن روحانیت میں آپ کا مقام اتنا بلند تھا کہ ہر صاحب مزار آپ کی قدرومنزلت کو سمجھتا تھا۔
مشہور ہے کہ خوشبو چھپی نہیں رہ سکتی۔ اس طرح آپ کی کرامات اور فیوضات کے چرچے تمام برصغیر میں پھیلنے لگے اور دور دراز سے اللہ تعاظم وتعالی کی مخلوق آپ کی خدمت میں اپنی روحانی و مادی تکالیف کی شفا یابی کے لئے حاضر ہونے لگی۔ اب دفتری اوقات کے بعد آپ کا تمام وقت الله تعالی کی مخلوق کے لئے فی سبیل اللہ دعاؤں میں گزر جا تا ۔ لہذا آپ نے سوچا کہ کہیں یہ مصروفیات دفتری اوقات میں بھی حائل نہ ھو جائیں اور فرائض کی انجام دہی میں رکاوٹ نہ بنیں ۔
آخر 1934 میں آپ نے ملازمت کو خیر باد کہا اور اپنے آبائی گاؤں منڈیر سیداں میں تشریف لا کر رشد و ہدایت کا سلسلہ جاری کیا۔ اور کم وبیش ایک سال قیام فرمانے کے بعد انبالہ تشریف لے گئے ۔ ۱۹۳۸ء میں واپس آبائی گاؤں منڈیر سیداں میں تشریف لائے اور مستقل سکونت اختیار فرمائی۔
Labels: ajmer shareef, india



0 Comments:
Post a Comment
Subscribe to Post Comments [Atom]
<< Home