4/25/22

آداب پیری و مریدی

 آداب پیر




1۔ موتوا قبل ان تموتوا هو کر حتى ياتيك اليقين کے درجہ کو پہنچے، وہی مرشد کامل ہے اور وہی بیت لینے کا حقدار ہے، 
2
۔کسی کو دنیا کے واسطے قبول نہ کرے۔
3۔مرید کے ظرف اور استطاعت کو پیش نظر رکھے۔
4۔ مرید کو غیر ضروری آزمائش میں نہ ڈالے اور فوراً معاف کردے۔
5-
مہربان او شفیق ہو۔
6۔ فرائض اور سنت کا تارک نہ ہو۔

آداب مریدین 

ا۔ خوب غور وفکر اور چھان بین کے بعد شیخ کا انتخاب کرے جو مندرجہ بالا صفات کا حامل ھو وگرنہ مرشد ناقص ھوگا اور پھر ہر طرف سے نظر پھیر کر اس کے احکام پر عمل کرے۔
2- شیخ کے حکم کو بغیر حیل و حجت اور بغیر غور وفکر کے قبول کرے۔
3۔ مرید کو یہ یقین ہونا چاہیئے کہ شخ کا ہر حکم مرید کے فائدے میں ہے خواہ بظاہر
فائدہ نظر نہ آئے۔
4۔ مرید سب کچھ اللہ کی طلب اور رضا پر میں چھوڑ دے۔ اس کے بعد قصد اور پھر عمل کا مقام ہے۔
5. مرید کو چاہیے کہ کم کھائے کم سوئے اورکم گفتگو کرے۔6۔ اپنی کیفیت اور واردات کو چھپائے۔
7۔ خلافت یا کسی درجہ کا خواہشمند نہ ہو۔
8۔ اپنے پیر بھائیوں یعنی دوسرے مریدین کو اپنے سے بہتر سمجھے اور ان سے حسد نہ کرے۔
9۔ شیخ کی غیر حاضری میں بھی یہی تصور کرے کہ شیخ سامنے ہے تا کہ برائیوں سے دور رہے۔
10 ۔اپنے سلسلہ کے علاوہ بھی باقی تمام سلسلوں کی تعظیم 

Labels: ,

0 Comments:

Post a Comment

Subscribe to Post Comments [Atom]

<< Home