10/23/23

WHATSAPP GROUP FOR FREE SIGNAL

1binance ky signal aur sekhny ky liye group ko join kryn. rozana ki bass par signal diye jayn gy technical analysis bhi share kiye jayn gy sath mein. https://chat.whatsapp.com/KfxiwS3y02YGgAORrQqJ9L. 
Contact NO 03086432886 

Labels:

4/25/22

آداب پیری و مریدی

 آداب پیر




1۔ موتوا قبل ان تموتوا هو کر حتى ياتيك اليقين کے درجہ کو پہنچے، وہی مرشد کامل ہے اور وہی بیت لینے کا حقدار ہے، 
2
۔کسی کو دنیا کے واسطے قبول نہ کرے۔
3۔مرید کے ظرف اور استطاعت کو پیش نظر رکھے۔
4۔ مرید کو غیر ضروری آزمائش میں نہ ڈالے اور فوراً معاف کردے۔
5-
مہربان او شفیق ہو۔
6۔ فرائض اور سنت کا تارک نہ ہو۔

آداب مریدین 

ا۔ خوب غور وفکر اور چھان بین کے بعد شیخ کا انتخاب کرے جو مندرجہ بالا صفات کا حامل ھو وگرنہ مرشد ناقص ھوگا اور پھر ہر طرف سے نظر پھیر کر اس کے احکام پر عمل کرے۔
2- شیخ کے حکم کو بغیر حیل و حجت اور بغیر غور وفکر کے قبول کرے۔
3۔ مرید کو یہ یقین ہونا چاہیئے کہ شخ کا ہر حکم مرید کے فائدے میں ہے خواہ بظاہر
فائدہ نظر نہ آئے۔
4۔ مرید سب کچھ اللہ کی طلب اور رضا پر میں چھوڑ دے۔ اس کے بعد قصد اور پھر عمل کا مقام ہے۔
5. مرید کو چاہیے کہ کم کھائے کم سوئے اورکم گفتگو کرے۔6۔ اپنی کیفیت اور واردات کو چھپائے۔
7۔ خلافت یا کسی درجہ کا خواہشمند نہ ہو۔
8۔ اپنے پیر بھائیوں یعنی دوسرے مریدین کو اپنے سے بہتر سمجھے اور ان سے حسد نہ کرے۔
9۔ شیخ کی غیر حاضری میں بھی یہی تصور کرے کہ شیخ سامنے ہے تا کہ برائیوں سے دور رہے۔
10 ۔اپنے سلسلہ کے علاوہ بھی باقی تمام سلسلوں کی تعظیم 

Labels: ,

4/21/22

حضرت محبوب ذات قدس سرہ العزیز کا شجرہ طریقت

 شجرہ طریقت




 مقام ولایت کے مرکز اعلی مولائے کائنات حضرت علی کرم اللہ وجہ
مقام نبوت کے مرکز فخر موجودات حضرت محمد رسول الله صلی الله علیہ وآلہ وسلم
الکریم ہیں۔ حضرت غوثیت مآب المشائخ سید عبدالقادر جیلانی نے جو اپنے نام
سے سلسلہ عالیہ قادریہ جاری فرمایا ہے اس میں حضرت علی کرم اللہ وجہ الکریم کے بعد
حضرت امام حسن اور امام حسین علیہ السلام کو اپنے سلسلے کا مورث اعلی تحریر فرمایا ہے۔ اور
ہمارے خاندان کے جد امجد حضرت اشہد باللہ الامجد رحمۃ اللہ علیہ کے حقیقی بھائی حضرت سید محمد ابوالفرح فاضل الدین نے بھی غوثیت مآب کی تصدیق میں ہی تحریر فرمایا ہے۔
میرے والد ماجد مرشد برحق حضرت قبلہ وکعبہ سید احمد حسین قدس سرہ العزیز کے
مرشد حضرت قبلہ و سید محمد فتح علی شہباز نے بھی حضرت محمد ابوالفرح فاضل الدین
بٹالوی رحمة الله علیہ کے اس قول کو نقل فرمایا ہے۔
میرے مرشد برحق محجوب ذات سیدنا احمد حسین قدس سرہ العزیز نے بھی
اپنے شیخ کی تصدیق فرمائی۔
چاروں بھائیوں نے بھی اسی سلسلہ کی تصدیق کی ہے ہماری اولادیں بھی اسی
سلسلہ کی تصدیق کریں گی جو میں راقم الحروف سید افتخار احمد حسین غوث مندرجہ ذیل میں
سلسلہ رقم کرتا ہوں: میرے یعنی سید افتخار احمد حسین کے شیخ میرے والد ماجد اور مرشد کل حضرت سید احمد حسین محبوب ذات ابوالفیض قدس سرہ العزیز کے پیرطریقت حقیقی
ماموں حضرت ابوالغضنفر فتح علی شہباز ہیں اور ان کے شیخ اور والد حضرت میرسید
اشرف علی اور ان کے شیخ اور والد حضرت سید عبد اللہ شاہ حضوری اور ان کے شیخ اور والد 
حضرت سید سالم علی شاہ اور ان کے شیخ اور والد حضرت سید میراں محمد جان سرمست
قادری اور ان کے شیخ حضرت سید غلام قادر اور ان کے شیخ اور والد حضرت سید ابو الفرح
سید محمد فاضل الدین بٹالوی اور ان کے شیخ محمد افضل کلانوری اور ان کے شیخ اور والد
حضرت ابو محمد اور ان کے شیخ حضرت شیخ ظاہر بندگی (لاہور) اور ان کے شیخ حضرت شاه
سکندر اور ان کے شیخ اور دادا محترم حضرت سید شاہ کمال کیتھلوی ۔ اور ان کے شیخ سید
شمس الدین اور ان کے شیخ سید رحمان گدا اور ان کے شیخ سید شمس الدین اعلی گدا۔ اور
ان کے شیخ حضرت سید شاہ عقیل اور ان کے شیخ حضرت سید بہاؤ الدین اور ان کے شیخ 
حضرت سید عبدالوہاب اور ان کے شیخ نائب غوث العالمین فرزند غوث العالمین حافظ
حضرت سید عبدالرزاق اور ان کے شیخ اور والد ماجدقطب کونین غوث الثقلین سید لافراد
شاه بغداد حضرت میراں محی الدین سخی سلطان سید عبد القادر جیلانی اور ان کے شیخ
حضرت ابوسعید مبارک مخرمی اور ان کے شیخ حضرت ابو الحسن اور ان کے شیخ سید ابو
یوسف اور ان کے حضرت عبدالواحد اور ان کے شیخ ابو بکر شبلی اور ان کے شیخ حضرت
جنید بغدادی اور ان کے شیخ اور ماموں حضرت سری سقطی اور ان کے شیخ حضرت خواجہ
معروف کرخی ۔ اور ان کے شیخ حضرت سیدنا امام موسی علی رضا اور ان کے شیخ اور والد
حضرت سیدنا امام موسی کاظم اور ان کے شیخ اور والد حضرت سیدنا امام جعفر صادق اور ان
کے شیخ حضرت سیدنا امام محمد باقر اور ان کے شیخ اور والد حضرت سیدنا امام علی زین
العابدین اور ان کے شیخ اور والد سیداشہد اشہید کربلا حضرت سیدنا امام حسین و امام حسن
مجتبی علیه السلام اور ان کے شیخ اور والد امام المشارق والمغارب علی ابن ابی طالب کرم
الله تعالی وجہ الکریم اور ان کے شیخ اور مرشد اور مولا اور آ قاعم زاد سید الانبیاء والمرسلین
خاتم النبیین والمسلمین حضرت مصطفی احمد مجتبی رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہیں۔
نوٹ: (میں یعنی ڈاکٹر صاحبزادہ سید مسعودالسید اپنے والد ماجد اور مرشد کامل حضرت

غوث زماں سید افتخاراحمدحسین غوث کے شجرہ طریقت کی تصدیق کرتا ہوں)۔

Labels:

4/17/22

حضرت محبوب ذات نے پانی دم کر کے کنویں میں ڈالا جہاں سے آج بھی لاکھوں لوگ شفا پا رہے ہیں

 شاه جی کا کنواں انبالہ شریف

1936 میں حضور سرکار عالی انبالہ شریف میں محبوبیت کا تاج پہنے مسند نشین

ہوئے تو چند دنوں میں ہی آپ مرجع خلائق ہو گئے ۔ ہر وقت لوگوں کا تانتا

بندھا رہتا ۔ لوگ بیماروں کو لاتے آپ پانی دم فرما کر دیتے۔ مریض شفایاب

ہوتے ۔ آپ کی اس شفاۓ خاص سے آپ کا چرچہ اس قدر ہو گیا کہ سینکڑوں

صراحیاں پیش ہوتیں آپ دم فرماتے اور لوگ واپس لے جاتے۔ شفا کا

فیضان اس قدر ہوا کہ انبالہ کے ڈاکٹروں نے حکام ضلع سے شکایت کر دی کہ

چھاؤنی میں ایک بزرگ آ گیا ہے

جس کی وجہ سے ہمارے کاروبار کو خاصا دھچکا لگا ہے۔ حکام کی تو خیر جرأت نہ

ہوئی مگر آپ نے خود ہی لوگوں سے کہہ دیا کہ یہ پانی لے کر فلاں کنویں میں

پھینک دیں اور اس سے پانی لے جا کر مریضوں کو دے دیا کریں۔ اللہ تعاظم و

تعالی شفا عطا فرما دے گا۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا اور آج تک ہو رہا ہے۔ اس

کنویں کا نام شاه جی کا کنواں‘‘ پڑ گیا ہے فیض اب تک جاری ہے اور اللہ تعاظم و تعالی کی مہربانی سے ہمیشہ جاری رہے گا۔ 



(حضرت مصنف قدس سره

العزیز کی جائے پیدائش بھی انبالہ شریف ہے۔)

Labels:

4/15/22

حضور نبی کریم صلی الله علیہ و آلہ وسلم نے حضرت محبوب ذات کو قبا اور دستار بھیجی

 بعدة ملازمت

میری تحقیق کے مطابق والد محترم حضرت محبوب ذات کے انبالہ شریف کے قیام کا زمانہ آپ کی روحانیت کے معراج کا زمانہ قرار دیا جا سکتا ہے۔محبوب ذات کے منصب اور مرتبے کا انکشاف یہاں پر ہوا۔ حضور کا یہ مقام صاحب مقام ہی سمجھ سکتے ہیں ۔ مختصر الفاظ میں مقام فقر کے تینوں حروف (ف ۔ فنا بااللہ، ق   قربت رسول، ر۔ روحانیت) کا جو ہر روح ہی کا مقام ہے جو دنیا میں گنتی کے چند عظیم انسانوں کو حاصل ہوا ہے۔ اس کے علاوہ دوسراعظیم مقام جو آپ کو انبالہ شریف میں ملا وہ ایک عظیم درجہ قرب رسالت کا ہے (یعنی حضور نبی کریم صلی الله علیہ و آلہ وسلم نے آپ کو قبا اور دستار بھیجی)۔



تبرکات

 جناب حاجی روشن دین صاحب اس واقعہ کو یوں بیان فرماتے ہیں کہ دوران قیام مدینہ منورہ ایک شب مجھے حضور نبی اکرم صلی الله علیہ و آلہ وسلم کی زیارت نصیب ہوئی ۔ حضور پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میری طرف سے ایک دستار اور قبا سید احمد حسین شاہ کے لئے لے جاؤ اور ساتھ ہی یہ پیغام دو کہ انہیں زیب تن کریں چنانچہ میں نے حکم کی تکمیل کی اور حج بیت اللہ کی سعادت سے واپس آ کر دونوں تبرکات حضورقبلہ محبوب ذات حضرت سیداحمد حسین شاہ صاحب کی بارگاہ عالیہ میں پیش کر کے حضور اقدس رسالت مآب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا پیغام دیا ۔جس پر حضور قبلہ محبوب ذات قدس سرہ نے ان تبرکات کو بوسہ دیا اور آنکھوں سے لگایا۔ وہ تبرکات آج بھی دربار شریف میں محفوظ ہیں جن کی زیارت مریدین کو اکثر کروائی جاتی ہے۔انبالہ شریف میں ہر روز آپ کے ہاں بے شمارفقراء کا اجتماع رہتا ہر کوئی اپنا اپنا دامن لے کر آتا اور روشن نصیب لے کر جا تا ۔ کوئی یوم خالی نہ گیا ہو گا جس یوم دو صد سے کم انسانوں کو ظاہری اور باطنی غذا نہ ملی ھو۔

1936 کے آخر میں حضور سرکار عالی نے حضرت غریب نواز خواجہ معین الدین چشتی رحمة اللہ علیہ کی منشا کے مطابق نیاز کا انتظام فرمایا۔ فیضان اور برکت کا یہ عالم تھا دو دیک تبرک سارے انبالہ شریف کے لئے کافی تھا۔

آپ کا ارشاد پاک ہے کہ قرآن کریم اور اسوۂ نبی کریم صلی اللہ  علیہ وآلہ وسلم سب سے بڑی دولت ہے اسے حاصل کر لو ۔ اللہ تعاظم و تعالی کی وحدانیت کو صحیح قلب سے تسلیم کر لو تو تم بھی صاحب کرامت ھو جاؤ گے۔

Labels:

4/14/22

حضرت محبوب ذات دہلی میں اجمیر شریف اور باقی باللہ کے مزار پر پہنچے تو

 اہل قبول کے ساتھ تعلقات

اجمیر شریف میں سجادہ نشین کی تواضع 

خلیفہ سوئم میر حسرت علی شاہ صاحب الہ آبادی بیان کرتے ہیں کہ حضور سرکار عالی 1927 میں حضرت باقی باللہ رحمۃ اللہ علیہ کے روضہ اقدس واقع دہلی کی زیارت کرنے کے بعد اجمیر شریف روانہ ہو گئے ۔ حضور سرکار عالی رحمة الله علیہ نے مجھے بتایا کہ وہاں کے سجادہ نشین مجھے لینے کے لئے نہیں آئے۔ میں نے مراقبہ کیا تو خواجہ غریب نواز معین الدین چشتی رحمة اللہ علیہ نے مجھے فرمایا کہ میں مدینہ منورہ گیا ہوا تھا۔ میں ابھی مجاوروں اور سجادہ نشین کو کہہ دیتا ہوں کہ وہ آپ کی عظمت پہچانے اور آپ کی شان کے مطابق آپ کا استقبال کریں ۔ اس مراقبہ کے تھوڑی دیر بعد سجادہ نشین بمع تمام مجاوروں کے میرے پاس آئے اور مجھے علیحدہ کمرہ دیا جس میں رہائش کا تمام سامان موجود تھا اور دو وقت کھانا سجادہ نشین خود بھیجتے تھے ۔ میں نے یہاں تین چار ایام قیام کیا اور واپس دہلی آ گیا۔



مجاور میری اولا نہیں۔

سید میر حسرت علی شاہ صاحب خلیفہ سوئم الہ آبادی نے بیان کیا کہ 1927 میں حضور سرکار عالی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ جب میں دہلی گیا تو حضرت باقی بالله رحمة الله علیہ کے مزار پاک پر حاضری دی حضرت باقی باللہ صاحب نے مجھے کہا کہ میرے مزار پر جو مجاور ہیں وہ میری اولاد نہیں ہیں لوگوں کو غلط  بتاتے ہیں کہ ہم صاحب مزار کی اولاد میں سے ہیں ۔ میں نے یہ بات مجاوروں کو بتائی لیکن وہ نہ مانے میری طبیعت جوش میں آ گئی۔ میں نے حضرت باقی باللہ رحمة الله علیہ کی قبر کے تعویز کو دونوں ہاتھوں سے تھام لیا اور مجاوروں کو مخاطب کر کے کہا کہ اگرتم باقی باللہ کی اولاد سے ہو تو یہ تعویز پکڑ کر بتاؤ۔ یہ سن کر تمام مجاور خائف ہوگئے اور کسی کی ہمت نہ ہوئی کہ باقی بالله کی قبر کے تجویز کو پکڑے۔ حالانکہ حضور سرکار عالی قدس سرہ العزیز کا نسبی تعلق حضرت باقی بالله رحمة الله علیه سے نہ تھا لیکن روحانیت میں آپ کا مقام اتنا بلند تھا کہ ہر صاحب مزار آپ کی قدرومنزلت کو سمجھتا تھا۔

مشہور ہے کہ خوشبو چھپی نہیں رہ سکتی۔ اس طرح آپ کی کرامات اور فیوضات کے چرچے تمام برصغیر میں پھیلنے لگے اور دور دراز سے اللہ تعاظم وتعالی کی مخلوق آپ کی خدمت میں اپنی روحانی و مادی تکالیف کی شفا یابی کے لئے حاضر ہونے لگی۔ اب دفتری اوقات کے بعد آپ کا تمام وقت الله تعالی کی مخلوق کے لئے فی سبیل اللہ دعاؤں میں گزر جا تا ۔ لہذا آپ نے سوچا کہ کہیں یہ مصروفیات دفتری اوقات میں بھی حائل نہ ھو جائیں اور فرائض کی انجام دہی میں رکاوٹ نہ بنیں ۔

آخر 1934 میں آپ نے ملازمت کو خیر باد کہا اور اپنے آبائی گاؤں منڈیر سیداں میں تشریف لا کر رشد و ہدایت کا سلسلہ جاری کیا۔ اور کم وبیش ایک سال قیام فرمانے کے بعد انبالہ تشریف لے گئے ۔ ۱۹۳۸ء میں واپس آبائی گاؤں منڈیر سیداں میں تشریف لائے اور مستقل سکونت اختیار فرمائی۔

Labels: ,

4/13/22

حضرت سید احمد حسین قدس سرہ العزیز وقت کے غوث اور ذات کے محبوب تھے

،امام العارفين، امام المتقین امام الاولیاء



آج میں جس شخصیت کا ذکر کرنے جا رہا ہوں وہ کوئی

عام نہیں بلکہ امام العارفين، امام المتقین، اور امام

الاولیاء ہیں جن کا نام حضرت سید احمد حسین اور

القاب محبوب ذات اور وقت کےغوث ہیں. حضرت سید احمد حسین کا شجرہ مبارک حضور اکرم صلی الله

علیہ وسلم سے ملتا ہے اور آپ کی کرامت بے شمار

ہیں اور لاکھ لوگ آپ کے مرید ہیں جو کہ آپ سے فیضیاب ہو رہے ہیں آپ اپنے مریدین سے محبت کرتے تھے اور سب کو اپنا یار کہہ کر بلاتے تھے ۔ آپ دن کو ملازمت کرتے اور

رات کو مری کے جنگل میں الله کی عبادت کرتے تھے۔

آپ الله کی رضا کے لیے 40 ،40 دن کا اور 6،6

ماہ کا اور 9،9 ماہ کا روزہ رکھا کرتے تھے۔

آپ کا روضہ مبارک سیالکوٹ کے ایک گاوں منڈیر

شريف میں موجود ہے بیشمار زائرین آتے ہیں اور

اپنی جھولیوں کو مرادوں سے بھر کر لے جاتے ہیں 


Labels: ,